#1
ڈینگی کی صنعت on Wed Sep 28, 2011 8:53 pm
[b]ڈینگی کی صنعت![/b]
وسعت اللہ خان
یہ عام سےگھٹیا مچھروں کے برعکس صاف پانی پر پلتا ہے۔
حکومتِ پنجاب ان دنوں ڈینگی مچھر کے پیچھے لٹھ لئے پڑی ہے۔ لاہور سمیت متعدد شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت چار سے زیادہ ڈینگی مچھروں کے اجتماع پر پابندی کے علاوہ گلی محلوں میں گاڑیاں دھونا، ٹائروں کو کھلی جگہ رکھنا، پانی کی ٹنکیاں اور دیگر ذخائر نہ ڈھانپنا قابلِ دست اندازیِ جرم قرار پایا ہے۔
جب حکومتِ پنجاب نے اسکول کے بچوں کواحکامات جاری کیے کہ وہ صبح تا دوپہر پوری آستین کی قمیضیں پہن کر تعلیم حاصل کریں، سرکاری گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں میں دھوئیں کا سپرے کریں اور جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور دیگر آمیزے چھڑکےجائیں تو ڈینگی اپنے دشمنوں کی سادہ لوحی سے خوب لطف اندوز ہوا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ مچھر کمیونٹی میں ڈینگی کا وہی مقام ہے جو انسانی سماج میں سید اور برہمن کو حاصل ہے۔
یہ عام سےگھٹیا مچھروں کے برعکس صاف پانی پر پلتا ہے اور سرسبز ماحول میں رہائش پسند کرتا ہے۔ وقت بے وقت نہیں کاٹتا بلکہ طلوعِ آفتاب یا غروب آفتاب کے اوقات میں واردات کرتا ہے۔
جب سری لنکن ماہرین کی ڈینگی دشمن ٹیم گزشتہ دنوں لاہور کے ایک ہسپتال میں مریضوں کی کیفیت دیکھنے پہنچی تو ڈاکٹروں کے علاوہ اردگرد کے گملوں میں قیام پذیر ڈینگیوں نے بھی اپنے انڈوں سمیت استقبال کیا۔ چنانچہ مہمان ٹیم نے ڈینگی کی دلیری سراہتے ہوئے حکومتِ پنجاب کی مستعدی کو بھی زیرِ لب داد دی۔
جب حکومتِ پنجاب نے اسکول کے بچوں کواحکامات جاری کیے کہ وہ صبح تا دوپہر پوری آستین کی قمیضیں پہن کر تعلیم حاصل کریں، سرکاری گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں میں دھوئیں کا سپرے کریں اور جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور دیگر آمیزے چھڑکےجائیں تو ڈینگی اپنے دشمنوں کی سادہ لوحی سے خوب لطف اندوز ہوا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ مچھر کمیونٹی میں ڈینگی کا وہی مقام ہے جو انسانی سماج میں سید اور برہمن کو حاصل ہے۔
جس طرح کچھ عرصہ پہلے شریف حکومت نے مہنگی چینی سستی کروانے کے لیے اتنے جوش سے شوگر ملز اور پرچون دوکانوں پر چھاپے مارے کہ چینی سستی ہونے کے بجائے بازار سے ہی غائب ہوگئی۔ جس طرح آٹھ روپے کی روٹی پانچ روپے میں فراہم کرنے کے لیے سستے تندوروں کی سکیم میں اربوں روپے جلا کر ہاتھ جھاڑ لیے گئے اسی طرح ڈینگی سے نمٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔
پرائیویٹ لیبارٹریوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ڈینگی کی تشخیص کا بلڈ ٹیسٹ نوے روپے میں کریں۔ زیادہ قیمت طلب کرنے کے الزام میں اب تک لاہور میں ایک سو دس لیبارٹریوں پر سیل لگ چکی ہے۔
کئی لیبارٹریوں میں پولیس اور انتظامی افسران طبی تجربے سے عاری ٹیکنیشنز کے بغیر پہنچے اور ٹیسٹ کرنے اور کرانے والوں کو باہر نکال کر تالہ لگا دیا۔اس اقدام سے نا صرف ڈینگی کے مشتبہ مریض بلکہ دیگر ہزاروں ضرورت مند بھی متاثر ہوئے۔
حکومتِ پنجاب نے متبادل کے طور پر شہر بھر میں دس بلڈ ٹیسٹنگ سنٹرز قائم کیے جہاں لوگوں کو سرکاری ہسپتالوں کی طرح مفت ٹیسٹ کی سہولت دی گئی ہے۔ لیکن سرکاری طبی سہولتیں بس اتنی ہیں کہ لاہور میں ستر فیصد مریض نجی شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔
البتہ حکومتی جوش و خروش سے یہ ضرور ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کے باہر لائنیں اور لمبی ہوگئیں۔ حالانکہ جو مقصد مہنگے ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریوں کو بند کر کے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہی مقصد انہیں بند کیے بغیر بھاری جرمانوں کی مدد سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔
بھولی بھالی صوبائی حکومت کی اس ذہانت آمیز حکمتِ عملی نے ڈینگی مچھر کے احساسِ تحفظ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اس کا اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ اب تک صوبۂ پنجاب میں ڈینگی بخار میں مبتلا جو چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے صرف پانچ سو چالیس لاہور سے باہر کے ہیں۔اب تک جو چھتیس اموات ہوئی ہیں ان میں سے پچیس لاہور اور اس کے مضافات میں ہوئی ہیں۔
ڈینگی مچھر صاف پانی میں پھلتا پھولتا ہے۔
پنجاب کے بعد ڈینگی نے خیبر پختون خوا پر توجہ دی جہاں اب تک چوہتر مریض اور پانچ اموات سامنے آئی ہیں۔ لیکن وہاں بھی محکمۂ صحت ڈینگی اور دیگر مچھروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ گندے جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور استعمال شدہ موبل آئل چھڑک دیں۔ اندھیرے میں لٹھ چلانے سے ڈینگی کا بھلے بال ڈینگا نا ہو مگر عام مچھروں کو ضرور جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتہائی مصروفیت کے سبب ڈینگی دیگر علاقوں پر کماحقہ توجہ نہیں دے پایا۔ سندھ میں شدید بارشوں کے باوجود اب تک ڈینگی بخار کے چار کیسز اور ایک موت سامنے آئی ہے جبکہ بلوچستان ڈینگی کو اس لیے وارہ نہیں کھا رہا کہ ایک ایسے علاقے میں پہنچنا کون سی عقل مندی ہے جہاں فی مربع میل چار زندگی سے تنگ لوگ بستے ہوں۔
بفضلِ ڈینگی الیکٹرونک میڈیا کی ریٹنگ اور اشتہارات کی بھی چاندی ہے۔ جو ماسکیٹو سپرے اور کوائل عام مچھروں کو دور رکھنے کے لئے بیچے جارہے تھے اب انہیں ڈینگی شکن قرار دے کر صارفین کی لاعلمی منافع میں نچوڑی جا رہی ہے۔ جو صابن دس بڑے جراثیموں کے خاتمے کے لیے تیر بہدف بتایا جارہا تھا اب ڈینگی کے لیے بھی اکسیر ہوگیا ہے۔ ایک شیمپو بھی بتایا جارہا ہے جس کی خوشبو سے ڈینگی یوں بھاگے ہے جیسے شیمپو سے دھلی دھلائی ہیروئن پرستاروں سے !
کئی لیبارٹریوں میں پولیس اور انتظامی افسران طبی تجربے سے عاری ٹیکنیشنز کے بغیر پہنچے اور ٹیسٹ کرنے اور کرانے والوں کو باہر نکال کر تالہ لگا دیا۔اس اقدام سے نا صرف ڈینگی کے مشتبہ مریض بلکہ دیگر ہزاروں ضرورت مند بھی متاثر ہوئے۔
مگر کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ڈینگی بخار میں مبتلا ننانوے فیصد مریض درست تشخیص اور طبی مدد کے سبب زیادہ سے زیادہ پندرہ روز میں صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ ڈینگی بخار سے تو پاکستان میں ہر سال سو لوگ بھی بمشکل مرتے ہیں لیکن ملیریا سے تقریباً پچاس ہزار مرجاتے ہیں۔ مگر جتنی فکر اور ڈرامائی تشویش ڈینگی کے بارے میں پھیلی یا پھیلائی جارہی ہے اس کا دس فیصد بھی ملیریا کو میسر نہیں۔
وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ڈینگی مچھر نسبتاً نیا، پراسرار اور اعلٰی ذات ہے لہٰذا سرکار، کارپوریٹ سیکٹر اور میڈیا کے لیے پرکشش و منافع بخش ہے۔ نجی ہسپتال میں ڈینگی بخار کا پندرہ روزہ علاج اوسطاً ایک لاکھ روپے میں ہوتا ہے جبکہ ملیریا کا مریض پانچ سو روپے کی تشخیص و دوا میں خود ہی لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے یا لیٹ جاتا ہے ۔
ایسے میں صاف پانی پر پلنے والے مچھر کے بجائے جوہڑ کے اندر اور جوہڑ کے اردگرد بسنے والی مخلوقات کو بھلا کیوں زیادہ سر چڑھایا جائے۔
یہ عام سےگھٹیا مچھروں کے برعکس صاف پانی پر پلتا ہے۔حکومتِ پنجاب ان دنوں ڈینگی مچھر کے پیچھے لٹھ لئے پڑی ہے۔ لاہور سمیت متعدد شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت چار سے زیادہ ڈینگی مچھروں کے اجتماع پر پابندی کے علاوہ گلی محلوں میں گاڑیاں دھونا، ٹائروں کو کھلی جگہ رکھنا، پانی کی ٹنکیاں اور دیگر ذخائر نہ ڈھانپنا قابلِ دست اندازیِ جرم قرار پایا ہے۔
جب حکومتِ پنجاب نے اسکول کے بچوں کواحکامات جاری کیے کہ وہ صبح تا دوپہر پوری آستین کی قمیضیں پہن کر تعلیم حاصل کریں، سرکاری گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں میں دھوئیں کا سپرے کریں اور جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور دیگر آمیزے چھڑکےجائیں تو ڈینگی اپنے دشمنوں کی سادہ لوحی سے خوب لطف اندوز ہوا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ مچھر کمیونٹی میں ڈینگی کا وہی مقام ہے جو انسانی سماج میں سید اور برہمن کو حاصل ہے۔
یہ عام سےگھٹیا مچھروں کے برعکس صاف پانی پر پلتا ہے اور سرسبز ماحول میں رہائش پسند کرتا ہے۔ وقت بے وقت نہیں کاٹتا بلکہ طلوعِ آفتاب یا غروب آفتاب کے اوقات میں واردات کرتا ہے۔
جب سری لنکن ماہرین کی ڈینگی دشمن ٹیم گزشتہ دنوں لاہور کے ایک ہسپتال میں مریضوں کی کیفیت دیکھنے پہنچی تو ڈاکٹروں کے علاوہ اردگرد کے گملوں میں قیام پذیر ڈینگیوں نے بھی اپنے انڈوں سمیت استقبال کیا۔ چنانچہ مہمان ٹیم نے ڈینگی کی دلیری سراہتے ہوئے حکومتِ پنجاب کی مستعدی کو بھی زیرِ لب داد دی۔
جب حکومتِ پنجاب نے اسکول کے بچوں کواحکامات جاری کیے کہ وہ صبح تا دوپہر پوری آستین کی قمیضیں پہن کر تعلیم حاصل کریں، سرکاری گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں میں دھوئیں کا سپرے کریں اور جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور دیگر آمیزے چھڑکےجائیں تو ڈینگی اپنے دشمنوں کی سادہ لوحی سے خوب لطف اندوز ہوا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ مچھر کمیونٹی میں ڈینگی کا وہی مقام ہے جو انسانی سماج میں سید اور برہمن کو حاصل ہے۔
جس طرح کچھ عرصہ پہلے شریف حکومت نے مہنگی چینی سستی کروانے کے لیے اتنے جوش سے شوگر ملز اور پرچون دوکانوں پر چھاپے مارے کہ چینی سستی ہونے کے بجائے بازار سے ہی غائب ہوگئی۔ جس طرح آٹھ روپے کی روٹی پانچ روپے میں فراہم کرنے کے لیے سستے تندوروں کی سکیم میں اربوں روپے جلا کر ہاتھ جھاڑ لیے گئے اسی طرح ڈینگی سے نمٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔
پرائیویٹ لیبارٹریوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ڈینگی کی تشخیص کا بلڈ ٹیسٹ نوے روپے میں کریں۔ زیادہ قیمت طلب کرنے کے الزام میں اب تک لاہور میں ایک سو دس لیبارٹریوں پر سیل لگ چکی ہے۔
کئی لیبارٹریوں میں پولیس اور انتظامی افسران طبی تجربے سے عاری ٹیکنیشنز کے بغیر پہنچے اور ٹیسٹ کرنے اور کرانے والوں کو باہر نکال کر تالہ لگا دیا۔اس اقدام سے نا صرف ڈینگی کے مشتبہ مریض بلکہ دیگر ہزاروں ضرورت مند بھی متاثر ہوئے۔
حکومتِ پنجاب نے متبادل کے طور پر شہر بھر میں دس بلڈ ٹیسٹنگ سنٹرز قائم کیے جہاں لوگوں کو سرکاری ہسپتالوں کی طرح مفت ٹیسٹ کی سہولت دی گئی ہے۔ لیکن سرکاری طبی سہولتیں بس اتنی ہیں کہ لاہور میں ستر فیصد مریض نجی شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔
البتہ حکومتی جوش و خروش سے یہ ضرور ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کے باہر لائنیں اور لمبی ہوگئیں۔ حالانکہ جو مقصد مہنگے ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریوں کو بند کر کے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہی مقصد انہیں بند کیے بغیر بھاری جرمانوں کی مدد سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔
بھولی بھالی صوبائی حکومت کی اس ذہانت آمیز حکمتِ عملی نے ڈینگی مچھر کے احساسِ تحفظ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اس کا اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ اب تک صوبۂ پنجاب میں ڈینگی بخار میں مبتلا جو چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے صرف پانچ سو چالیس لاہور سے باہر کے ہیں۔اب تک جو چھتیس اموات ہوئی ہیں ان میں سے پچیس لاہور اور اس کے مضافات میں ہوئی ہیں۔
ڈینگی مچھر صاف پانی میں پھلتا پھولتا ہے۔پنجاب کے بعد ڈینگی نے خیبر پختون خوا پر توجہ دی جہاں اب تک چوہتر مریض اور پانچ اموات سامنے آئی ہیں۔ لیکن وہاں بھی محکمۂ صحت ڈینگی اور دیگر مچھروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ گندے جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور استعمال شدہ موبل آئل چھڑک دیں۔ اندھیرے میں لٹھ چلانے سے ڈینگی کا بھلے بال ڈینگا نا ہو مگر عام مچھروں کو ضرور جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتہائی مصروفیت کے سبب ڈینگی دیگر علاقوں پر کماحقہ توجہ نہیں دے پایا۔ سندھ میں شدید بارشوں کے باوجود اب تک ڈینگی بخار کے چار کیسز اور ایک موت سامنے آئی ہے جبکہ بلوچستان ڈینگی کو اس لیے وارہ نہیں کھا رہا کہ ایک ایسے علاقے میں پہنچنا کون سی عقل مندی ہے جہاں فی مربع میل چار زندگی سے تنگ لوگ بستے ہوں۔
بفضلِ ڈینگی الیکٹرونک میڈیا کی ریٹنگ اور اشتہارات کی بھی چاندی ہے۔ جو ماسکیٹو سپرے اور کوائل عام مچھروں کو دور رکھنے کے لئے بیچے جارہے تھے اب انہیں ڈینگی شکن قرار دے کر صارفین کی لاعلمی منافع میں نچوڑی جا رہی ہے۔ جو صابن دس بڑے جراثیموں کے خاتمے کے لیے تیر بہدف بتایا جارہا تھا اب ڈینگی کے لیے بھی اکسیر ہوگیا ہے۔ ایک شیمپو بھی بتایا جارہا ہے جس کی خوشبو سے ڈینگی یوں بھاگے ہے جیسے شیمپو سے دھلی دھلائی ہیروئن پرستاروں سے !
کئی لیبارٹریوں میں پولیس اور انتظامی افسران طبی تجربے سے عاری ٹیکنیشنز کے بغیر پہنچے اور ٹیسٹ کرنے اور کرانے والوں کو باہر نکال کر تالہ لگا دیا۔اس اقدام سے نا صرف ڈینگی کے مشتبہ مریض بلکہ دیگر ہزاروں ضرورت مند بھی متاثر ہوئے۔
مگر کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ڈینگی بخار میں مبتلا ننانوے فیصد مریض درست تشخیص اور طبی مدد کے سبب زیادہ سے زیادہ پندرہ روز میں صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ ڈینگی بخار سے تو پاکستان میں ہر سال سو لوگ بھی بمشکل مرتے ہیں لیکن ملیریا سے تقریباً پچاس ہزار مرجاتے ہیں۔ مگر جتنی فکر اور ڈرامائی تشویش ڈینگی کے بارے میں پھیلی یا پھیلائی جارہی ہے اس کا دس فیصد بھی ملیریا کو میسر نہیں۔
وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ڈینگی مچھر نسبتاً نیا، پراسرار اور اعلٰی ذات ہے لہٰذا سرکار، کارپوریٹ سیکٹر اور میڈیا کے لیے پرکشش و منافع بخش ہے۔ نجی ہسپتال میں ڈینگی بخار کا پندرہ روزہ علاج اوسطاً ایک لاکھ روپے میں ہوتا ہے جبکہ ملیریا کا مریض پانچ سو روپے کی تشخیص و دوا میں خود ہی لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے یا لیٹ جاتا ہے ۔
ایسے میں صاف پانی پر پلنے والے مچھر کے بجائے جوہڑ کے اندر اور جوہڑ کے اردگرد بسنے والی مخلوقات کو بھلا کیوں زیادہ سر چڑھایا جائے۔

Home

Posts


